Mahfooz khan

Thursday, April 30, 2020

بےمثال_لوگوں_کےبےمثال_جملے

#بےمثال_لوگوں_کےبےمثال_جملے
ٓٓٓٓ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
🌼 ایک عربی کو کہا گیا کہ تم مر جاؤ گے
اس نے کہاں پھر کہاں جائیں گے ؟
کہا گیا کہ اللہ کے پاس
عربی کہنے لگا آج تک جو خیر بھی پائی ھے اللہ کے یہاں سے پائی ھے پھر اس سے ملاقات سے کیا ڈرنا ،،
کس قدر بہترین حسنِ ظن ہے اپنے اللہ سے۔

🌼 ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ھیں جس کی دعا قبول کی جاتی ھے ؟
بزرگ نے جواب دیا نہیں ، مگر میں اس کو جانتا ھوں جو دعائیں قبول کرتا ھے
کیا ہی بہترین حسنِ ظن ھے۔

🌼 ایک بدو نے پوچھا کہ حساب کون لے گا ؟
آپ نے فرمایا کہ " اللہ "
رب کعبہ کی قسم پھر تو ہم نجات پا گئے ،بدو نے خوشی سے کہا
کیا ہی بہترین حسنِ ظن ھے اپنے رب سے۔

🌼ایک نوجوان کا آخری وقت آیا تو اس کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
نوجوان نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا کہ امی جان اگر میرا حساب آپ کے حوالے کر دیا جائے تو آپ میرے ساتھ کیا کریں گی ؟
ماں نے کہا کہ میں تجھ پر رحم کرتے ھوئے معاف کردونگی
اماں جان اللہ پاک آپ سے بڑھ کر رحیم ہے پھر اس کے پاس بھیجتے ھوئے یہ رونا کیسا ؟
کیا ہی بہترین گمان ھے اپنے رب کے بارے میں۔

🌼اللہ پاک نے حشر کی منظر کشی کرتے ھوئے فرمایا ہے
{ وخشعت الأصوات للرّحمٰن } اور اس دن آوازیں دب جائیں گی رحمان کے سامنے
اس حشر کی گھڑی میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ " جبار " کے سامنے بلکہ اپنی صفتِ رحمت کا ہی آسرا دیا ہے۔“

Saturday, April 25, 2020

एक स्त्री जिसे इस नारी पूजक देश मे लगातार अपमानित किया गया।

एक स्त्री जिसे इस नारी पूजक देश मे लगातार अपमानित किया गया।
*********************************
ये पोस्ट राजनीतिक नही है केवल सोनिया गांधी को एक स्त्री के नजरिये से देखने की कोशिश है ।सोनिया गांधी के जीवन पर आप नजर डाले तो उनका पूरा जीवन एक त्रासदी से कम नही है।वर्षों से वो केवल एक अदद मां बन कर रह गयी है ।शादी के कुछ साल बाद ही मां जैसी सास का गोलियों से छलनी शरीर जिसकी गोद मे आ जाए, टुकड़ो में जिसने पति की लाश देखी हो उसकी पीड़ा को क्या कोई महसूस कर सकता है।आखिर सोनिया -राजीव ने ऐसा क्या पाप किया?
                   

एक दूसरे से प्रेम किया, विवाह किया और विवाह के इतने वर्षों बाद भी भारतीय बहू के सारे धर्म ये स्त्री निभा रही लेकिन आपने उसे क्या दिया अपमान और तिरस्कार ।विवाह के बाद एक स्त्री की पहचान उसकी ससुराल से होती है यही है न आपकी भारतीय संस्कृति? फिर इस मामले में आपकी संस्कृति इतनी दोमुंही कैसे हो जाती है?किस मुंह से आप वसुधेव कुटुम्बकम का ढोंग करते जब अपने ही देश की उस बहू को आप आजतक नही अपना पाए जिसने अपनी पूरी उम्र आपके देश मे  गुजार दी।सुषमा स्वराज का मैं सम्मान करता हूँ लेकिन एक स्त्री होकर सोनिया के विदेशी मूल का जो बार-बार उन्होंने जिक्र किया वो उनकी गरिमा के खिलाफ था। उस स्त्री ने आपके देश को अपनाया,आपकी भाषा सीखी,मॉडर्न परिवेश में पली स्त्री के सर से आज भी किसी रैली में पल्लू नही गिरता और आपने उसे क्या दिया--सोनिया इटली की वेश्या थी(सुब्रमनियम स्वामी),सोनिया जरसी गाय है(मोदी),सोनिया विदेशी नस्ल की है इसलिए देशभक्त पैदा नही कर सकती(कैलाश), वगैरा-वगैरा।आप खुद को हिन्दू कहते हो? बोलते हो कि हमारे यहां स्त्री की पूजा होती है कितने धूर्त और मक्कार हो आप।अब अगर मैं पलट के पूंछू की सोनिया तो सालों से बहू का धर्म निभा रही लेकिन हिन्दू हृदय सम्राट ने अपनी शादी के 7 वचन निभाये?चुनाव नही होता तो देश जान ही नही पाता कि इनका विवाह भी हुआ है।आप अपनी घृणा से बाहर आइये तो सोनिया गांधी में आपको एक असली पारंपरिक भारतीय स्त्री की छवि दिखेगी।अपने पति के हत्यारो को माफ करने का कलेजा एक करुणा से भरी हुई भारतीय स्त्री में ही हो सकता।पूर्ण बहुमत की सरकार में भी न खुद पीएम बनी न राहुल को बनाया क्यो,कौन उन्हें रोक सकता था?इतना अपमान और तिरस्कार सह कर भी कभी पलट के अमर्यादित टिप्पड़ी नही की।एक उदाहरण देता हूँ राजीव गांधी की लाश  मद्रास लाई गई,जब सोनिया दिल्ली से मद्रास आयी तो उन्होंने दो ताबूत देखे एक राजीव गांधी का था जिस पर फूल चढ़े थे दूसरा उनके अंगरक्षक का था जिस पर कुछ नही था ।उस दुख की घड़ी में भी उन्हें इतना याद रहा कि तुरंत उन्होंने एक अधिकारी को बुलाया और कहा कि उस पर भी फूल चढ़ाओ उन्होंने मेरे पति के लिए जान दी है।क्षमा,दया,करुणा जो भारतीय स्त्री के आभूषण है उसमे से क्या उनके पास नही है?लेकिन फिर भी उनका अपमान और तिरस्कार शीर्ष के नेता से लेकर व्हाट्सअप्प यूनिवर्सिटी के जाहिल तक करते रहे।आलोचना के लिए राजनीतिक बातें है लेकिन राजनीति का क्या इतना पतन हो गया है कि आप एक स्त्री की गरिमा को ही भूल गए। ये प्रज्ञा ठाकुर,साध्वी प्राची,पूजा शकुन पर गर्व कर सकते लेकिन सोनिया गांधी को अपमानित करेंगे।दरसल सोनिया ने तो भारतीय संस्कृति निभाई लेकिन तुम लोगो ने दिखाया कि तुम अपने मूल में कितने कट्टर,जातिवादी,रंगभेदी,नस्लभेदी हो, तुम कितने धूर्त हो,संस्कृति की खोल में छुपे सबसे अश्लील समाज हो  ।

जिस स्त्री ने इस देश में गोलीयों से छलनी अपनी सास की लाश देखी,
जिस स्त्री ने इस देश में अपनी पति की लाश टुकड़ो में देखी हो,
वो स्त्री जब देश की राजनीति में उतरी तो उससे आजतक उसकी देशभक्ति का प्रमाण मांगा जा रहा है...!!

مولوی اور معاشرہ

*مولوی اور معاشرہ*

شیرشاہ سوری کے بنائے ہوئے پیمائش۔ زمین کے خوبصورت نظام کی بنیاد پر جب انگریز نے برصغیر پاک و ہند میں زمینوں کے ریکارڈ مرتب کرنے شروع کیے تو اس کے دماغ میں ایک طبقے سے شدید نفرت رچی بسی تھی اور وہ تھا اس سرزمین کا مولوی۔ انگریز کی آمد سے پہلے یہ لفظ معاشرے میں اس قدر عزت و توقیر کا حامل تھا کہ بڑے بڑے علماء و فضلاء اپنے نام کے ساتھ مولوی کا اضافہ کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے۔


انگریز کی اس طبقے سے نفرت کی بنیاد 1857ء کی جنگ آزادی میں پڑی جس کے سرخیل یہی مسجدوں کے مولوی تھے۔ دلّی کی جامع مسجد سے جہاد کے اعلان نے برصغیر کے مسلمانوں کو اس آخری معرکے کے لیے تیار کیا۔ لیکن یہ تو گزشتہ پچاس سالوں کی وہ جدوجہد تھی جو مسجدوں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر دین پڑھانے والے ان مسلمان علماء نے کی تھی۔ ٹیپو سلطان کی شہادت ایسا واقعہ تھا جس نے انگریز کو برصغیر میں قدم جمانے کا موقع فراہم کیا۔ ٹیپو سلطان کی موت کی خبر اس قدر خوش کن تھی کہ آج بھی ایڈمبرا کے قلعہ میں موجود ٹیپو کی نوادرات کے ساتھ یہ تحریر درج ہے کہ اس کی موت پر پورے انگلستان میں جشن منایا گیا۔ اس کے بعد انگریز نے ساری توجہ ان مسلمان مدرسوں کو بند کرنے، ان کو مسمار کرنے اور وہاں پر ہونے والے تدریسی کام پر پابندی لگانے پر مبذول کر دی۔
اسی کے ایک سپوت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے 1803ء میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا مشہور فتویٰ دیا 1857ء کی جنگ آزادی میں مولانا فضل حق خیرآبادی اور دیگر علماء کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے مولانا فضل حق خیرآبادی کی قیادت میں جہاد کا فتویٰ جاری کیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کی قیادت علماء کر رہے تھے۔
مولوی کے بارے میں انگریز افواج اور انتظامیہ متفق تھی کہ وہ ان کا شمالی ہند میں سب سے بڑا دشمن ہے۔ آرکائیوز کے اندر موجود دستاویز میں اس مولوی کا جس قدر خوف خط و کتابت میں دکھائی دیتا ہے وہ حیران کن ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا طبقہ تھا جس کی وفاداریوں نے انگریز کے دل میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔ یہ تھا خطۂ پنجاب کا زمیندار چوہدری اور نواب جنہوں نے مسلمانوں کی اس جنگ آزادی میں مجاہدین کے خلاف لڑنے کے لیے افرادی قوت فراہم کی۔ یہی نہیں بلکہ ان بڑے بڑے زمینداروں نے اپنے علاقوں میں جس طرح مسلمانوں کا خون بہایا اور انگریز کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا وہ تاریخی سچائی ہے۔ پاکستان کی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے اکثر ممبران کے آباء و اجداد مسلمانوں کے خلاف اس خونریزی کی قیادت کرتے تھے اور یہاں تک کہ ایک مسلمان جہادی کو مارنے کا معاوضہ صرف چند روپے لیتے تھے۔
پنجاب کی دھرتی کے یہ ’’عظیم سپوت‘‘ جن کی اولادیں آج ہماری سیاسی قیادت ہیں انگریز کے اس قدر وفادار تھے کہ جنگ عظیم اول میں جب فوج کی بھرتیاں شروع ہوئیں تو 1914ء میں 28 ہزار میں سے 14 ہزار پنجاب سے بھرتی ہوئے۔ 1915ء میں 93 ہزار میں سے 46 ہزار پنجاب سے اور 1916ء کے آخر تک پورے ہندوستان سے 2 لاکھ 23 ہزار نوجوان انگریز کے لیے لڑنے کے لیے فوج میں بھرتی ہوئے۔
ان میں سے ایک لاکھ دس ہزار پنجاب سے تھے۔ دوسری جانب 1857ء کی جنگ آزادی میں ہزاروں علماء کو پھانسیاں دی گئیں، توپ کے ساتھ باندھ کر اڑا دیا گیا، کالا پانی بھیجا گیا مگر ان کی تحریک زندہ و جاوید رہی۔ 1864ء میں انبالہ سازش کیس میں مولانا جعفر تھانیسری، مولانا یحییٰ کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے۔ شوق شہادت کا یہ عالم کہ دونوں سجدہ شکر ادا کرتے ہیں۔ انگریز ڈپٹی کمشنر پارسن اگلے دن آتا ہے اور کہتا ہے ’’ہم تم کو تمہاری مرغوب سزا شہادت نہیں دیں گے بلکہ تمہیں تمام زندگی کالا پانی میں کاٹنا ہو گی۔ اس کے بعد یہ مشعل مستقل روشن رہتی ہے۔ 1863ء پٹنہ سازش، 1870ء مالوہ سازش، 1871ء انبالہ سازش، 1870ء راج محل سازش اور ایسی بے شمار سازشوں کے خلاف بغاوتیں برصغیر کے اس مولوی کے سینے کا تمغہ ہیں جو بوریہ نشین تھا۔
انگریز جب ریونیو ریکارڈ مرتب کرنے لگا تو اس نے برصغیر اور خصوصاً پنجاب میں آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک باعزت کاشتکار اور دوسرے غیر کاشتکار، کاشتکاروں میں وہ اعلیٰ نسل نواب، چوہدری ، سردار، وڈیرے اور خان شامل تھے جنہوں نے انگریز سے وفاداری کے صلے میں زمینیں، جاگیریں اور جائیدادیں حاصل کی تھیں۔ جب کہ غیر کاشتکاروں میں محنت مزدوری سے رزق کمانے والے لوہار، ترکھان، جولاہے، موچی وغیرہ۔ انھیں عرف عام میں کمی یعنی کمترین کہہ کر پکارا جانے لگا۔
پنجاب میں کمی کمین ایک عام لفظ ہے جو ہر متکبر زمیندار کے منہ پر ہوتا ہے۔ ریوینیو (محکمہ مالیات) کے ریکارڈ میں ایک ’’فہرست کمیاں‘‘ مرتب کی گئی جس میں لوہار، ترکھان اور موچی، جولاہے کے ساتھ مسلمانوں کی قیادت کے دینی طبقے مولوی کو بھی شامل کر دیا گیا اور پھر گاؤں میں جو تضحیک کمی کمینوں کے حصے میں آئی مولوی کو بھی اسی تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود اس طبقے نے مسجد کی چٹائی سے دین کی مشعل تھامے رکھی۔
ہزاروں دیہاتوں میں یہ واحد پڑھا لکھا فرد ہوا کرتا تھا لیکن بڑے زمیندار جو جاہل اور ان پڑھ تھے ان کی تذلیل سہتا، جوتیوں میں بٹھایا جاتا، کٹائی پر بیگار میں لگایا جاتا مگر کمال ہے اس مرد باصفا کا کہ صبح فجر پر مسجد پہنچتا، چبوترے پر کھڑے ہو کر اذان دیتا، لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا، بچوں کے کان میں اذان دیتا، نکاح پڑھاتا اور اس ظالم چوہدری کے مرنے پر اس کے لیے قرآن بھی پڑھتا اور دعا کے لیے ہاتھ بھی اٹھاتا۔ شہروں میں بھی مولوی کو مسجد کی ڈیوٹی تک محدود کر دیا گیا۔ معاشرے سے اس کا تعلق صرف تین مواقع پرہوتا ہے۔
پیدائش کے وقت کان میں اذان، شادی کے وقت نکاح خوانی، اور موت پر مرنے والے کا جنازہ اور دعائے مغفرت۔ ملک بھر کی چھوٹی چھوٹی لاکھوں مساجد میں یہ امام ایک مزدور سے بھی کم تنخواہ پر امت کا سب سے اہم فریضہ یعنی اللہ کی جانب بلانا، ادا کر رہےہیں، بچوں کو قرآن بھی پڑھا رہے ہیں اور پنجگانہ نماز کی امامت بھی۔ کبھی ایک سیکنڈ کے لیے بھی مساجد میں نماز لیٹ نہ ہوئی کہ مولوی اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال پر ہیں۔ اس معاشرے نے جو فرض عین انھیں سونپا انھوں نے معاشرے کے ہر شعبے سے زیادہ حسن و خوبی اور اخلاص کے ساتھ ادا کیا۔
اس سب کے بدلے میں انگریز کے اس تخلیق کردہ معاشرے نے مولوی کو کیا دیا۔ وہ قرآن جس کی تعلیم کو اللہ نے سب سے بہتر تعلیم قرار دیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان معلموں اور طالب علموں کو افضل ترین قرار دیا۔ یہ طالب جو اس راستے پر نکلے شام کو ہر دروازے پر دستک دے کر کھانا اکٹھا کرتے ہیں اور پھر جو روکھی سوکھی مل جائے اسے نوشِ جاں کرتے ہیں۔ عالیشان کوٹھیوں میں رہنے والے اپنے بچوں کو انگریزی، فزکس، کیمسٹری کے لیے ہزاروں روپے ماہانہ دے کر بہترین استاد کا بندوبست کرتے ہیں، لیکن قرآن پڑھانے کے لیے انھیں ایسا مولوی چاہیے جو دو وقت روٹی لے کر خوش اور زیادہ سے زیادہ عید پر ایک جوڑا۔ جنھیں اپنے سگے ماں باپ کو موت کے بعد نہلانا نہیں آتا، اپنے باپ یا ماں کوجہنم کی آگ سے بچانے کے لیے مغفرت کی دعا کے دو حرف پڑھنے نہیں آتے وہ مولوی کا تمسخر اڑاتے رہے۔
اسے تضحیک کا نشانہ بناتے رہے۔ لیکن یہ مولوی اللہ کا بندہ اس معاشرے کی تمام تر ذلت و رسوائی کے باوجود پانچ وقت اللہ کی بڑائی اور سیدالانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اعلان کرتا رہا۔ وہ اگر سرکار کی کسی مسجد میں ملازم ہوا تو اس کی عزت و توقیر بھی پاؤں تلے روندی گئی۔کسی اوقاف کے منیجر نے اس کو ہاتھ باندھ کر کھڑا کیا تو دوسری جانب کسی انگریز فوجی یونٹ کے کرنل نے بلا کر کہا، او مولوی تمہیں سمجھ نہیں آتی یہ تم کیا قرآن کے الٹے سیدھے معانی نکالتے رہتے ہو۔ انسان کے بچے بن جاؤ ورنہ کوارٹر گارڈ بھی بند کر دوں گا۔ تمسخر، تضحیک، ذلت، لطیفے بازی سب اس مولوی کا مقدر تھی اور ہے۔ اب تو اگر کوئی اس حلیے کا شخص کسی چیک پوسٹ پر آ جائے تو دہشتگردی کے شبہ میں تلاشی کے عذاب سے بھی گزرتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود اس دور کی پر آشوبی میں دین کی اگر کوئی علامت ہے تو اس بوسیدہ سی مسجد کے چھوٹے سے کوارٹر میں رہنے والا مولوی۔ اسلام صرف مولوی کا نہیں ہم سب کا ہے۔ اللہ تعالٰی قیامت کے روز صرف مولوی سے نہیں پوچھے گا کہ تم نے دین کا علم حاصل کرنے اور پھیلانے میں اپنی ذمے داری ادا کی بلکہ ہر مسلمان سے یہ سوال ہو گا۔
اس سے بھی جو مسلمان کہلاتا ہے لیکن مسلمان بنتا نہیں اور اس سے بھی جو مسجد میں چندہ دے کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ دین کا فرض ادا ہو گیا۔ یہ رویہ جو گزشتہ دو سو سال سے انگریز نے اس معاشرے میں پیدا کیا ہے جس نے مولوی کو تمسخر کا نشانہ بنایا ایسے معاشرے میں جب ایک خاتون۔۔۔ عالمِ دین اور پابندِ شرع شخص کو اوئے، ابے، جاہل اور ایسے ذلت آمیز الفاظ سے بلاتی ہے تو تعجب کیسا۔ ایسا وہ معاشرے کے کسی اور طبقے سے کر کے دکھائے۔ زندگی جہنم نہ بنا دیں اس کی، کسی پارٹی کے لیڈر کو اس طرح ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کرے۔ ہر کسی کا زور مولوی پر
چلتا ہےا*

Friday, April 24, 2020

آکر واقعی آپ رمضان کے متعلق سنجیدہ ھیں*

*
* براہِ کرم*آکر واقعی آپ رمضان کے متعلق سنجیدہ ھیں*


  تو *تمام لایعنی، سطحی، کئی برسوں سے گردش کرنے والی  پوسٹ سے  اپنا وقت برباد کیجیے نا دوسروں کا*

*مثلآ مبارکبادیاں، پیاس نا لگنے کے گھریلو نسخے، گریٹنگس، لاک ڈاؤن میں عید کے کپڑے یا پکوان،*

*تقاریر و بیان کی ویڈیو کلپس اور وہی مضامیں اور چبے چبائے جملے اور نصیحتوں کے پلندے*

*اور ہاں رمضان اور قرآن اور اس جیسے دوسرے مضامین، شب قدر اور اس کے تعین اور تراویح  کی بحثیں، جو سینکڑوں برسوں سے جاری ھیں اور امت اب تک متفق نہیں ھوئ ھے تو اب آگے جاری رکھنا یہ اس مبارک مہینے میں وقت جیسی متاع عزیز کی ناقدری ھی ھے،*

*رمضان کیسے گزاریں؟ آخری عشرہ کیسے گزاریں؟ عید کی رات کیسے گزاریں؟*

*یہ اور اس جیسی کئی باتیں ھیں جو برسوں سے ھم سنتے آ رھے ھیں اب اس میں نا کسی اضافے کی گنجائش ھے نا ضرورت - اب ایک عام شخص بھی جانتا ھے کی رمضان عبادت، تلاوت، ذکراللہ، صدقات، اور دیگر کارِخیر کا مہینہ ھے - اب کمی ہے تو صرف یکسو ھو کر اللہ کی طرف اپنے اعمال صالحہ کے ڈریعے متوجہ ھونے کی بس - اب  خصوصاً موجودہ وبائ اور ملکی حالات کے باوجود کوئی  بندہ دیگر بے سر پیر کی پوسٹ سے اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کرتا ھے تو اس کے لیے ھم دعائے خیر ھی کر سکتے ھیں*
*واللہ اعلم*

सावधान_साज़िश_से_बचें

#सावधान_साज़िश_से_बचें


कोरोनावायरस के दौरान #रमजान के महीने में आने वाले #बवाल को हम टाल सकते हैं

बवाल यह हो सकता है कि हिंदुस्तान के अंदर #लाखों_मस्जिदें हैं अब इनमें से कई सैकड़ों मस्जिदों में यह #घटना हो सकती है कि कुछ #अतिवादी मुसलमान #तरावी की नमाज के लिए मस्जिद जाएं ,भीड़ इकट्ठा करके इफ्तार पार्टी करें।इसके बाद बाकी का बचा हुआ काम #मीडिया कर देगी

फिर जो rapid टेस्टिंग होनी होगी वह #सिर्फ_और_सिर्फ मुसलमानों पर होगी और जब मुसलमानों पर होगी तो कोविड-19 की केसेस मुसलमानों में ज्यादा पाए जाएंगे और  लॉक डाउन 3 का कारण सिर्फ और सिर्फ हिंदुस्तान के #मुसलमानों को ठहरा दिया जाएगा

आपके फोन में कुछ #मैसेज इस तरह आ सकते हैं कि भारत सरकार आपकी तराबीह  की नमाज को #रोकने के लिए इस तरह की #साजिश रच रही है।अगर तरावीह की नमाज #जमात से नहीं पड़ी तो फला #आपदा आ सकती है

कोई भी समझदार मुसलमान एसे #message नहीं भेजेगा ये तो सिर्फ  #आईटी_सेल की हरकतें होंगी। जोकि आपकी #कमज़ोरी को भली-भांति जानते हैं आप इन से #सावधान रहें और ऐसे मैसेज को फॉरवर्ड ना करें और तुरंत डिलीट करें

आप अपने #घर_पर_ही_नमाज_पढ़े घर पर ही #रोजा_रखें और तराबीह  की नमाज भी घर पर ही पढ़ें ,घर पर ही #इफ्तार_करें किसी भी तरह के #बहकावे में आकर #भोपू_मीडिया_को_कोई_मौका_ना_दें

इस तरह की #महामारी में #lockdown का #फरमान हमारे #नबी की तरफ से भी है और उसका #पालन करें

इस बात पर #गौर करे और जो #मौके_के_ताक पर बैठे है उन्हें मौका ना दे

#नोट:-अंधाधुंध शेयर या कॉपी पेस्ट करें
उन हिंदू-मुसलमान मित्रों को tag करें जिनकी पोस्ट की लाइक्स ज़्यादा हो